ممبئی20جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر کانگریس نے آج کہا کہ ظلم و ستم کے دو نابالغ متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے کے معاملے میں ریاستی حقوق اطفال کمیشن کی طرف سے پارٹی صدر راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا جانا محروم طبقے سے منسلک اہم مسائل سے توجہ بھٹکانے کی کوشش ہے۔مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع میں ایک کسان کے کنویں پر غسل کو لے کر دو دلت نوجوان کی طور پر پٹائی کی گئی تھی اور انہیں پورے گاؤں میں عریاں گھمایا گیا تھا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا ۔ راہل نے ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ٹویٹر پر واقعہ کے بارے میں لکھا تھا اور پسماندہ طبقوں پر بڑھتے مظالم کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔قانون کے مطابق نابالغ متاثرین کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی ہے۔ پارٹی صدرکادفاع کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے صحافیوں کو بتایا کہ گاندھی کی ٹویٹس سے پہلے ہی واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا اور ٹیلی ویژن چینلوں نے اس سے متعلق کلپ نشر کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ غریب کو معاشرے میں نشانہ بنائے جانے کے اہم مسئلے سے توجہ بھٹکانے کے لئے مہاراشٹر ریاستی حقوق اطفال کمیشن کی طرف سے راہل گاندھی کو نوٹس دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس اس بارے میں قانونی رائے لینے کے بعد آگے کی کارروائی پر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے سوال کیاکہ یہ تازہ معاملہ جلگاؤں ضلع میں کنویں میں نہانے کولے کر پسماندہ کمیونٹی کے دو نوجوان کے پیٹنے کا ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ ممبئی کے رہنے والے امول جادھو نامی شخص کی شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر ریاستی حقوق اطفال کمیشن نے دو نابالغ لڑکوں کی شناخت ظاہر کرنے کی پاداش میں کل کانگریس صدر راہل گاندھی اور ٹویٹر کو نوٹس بھیجا تھا۔ کمیشن نے ان سے10 دن میں جواب دینے کوکہاہے۔